!
اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کا مقصد پاکستانیوں کو قتل کرنا ہے تو یہ کام تو ان کے بغیر بھی ہو رہا ہے اور بہت اچھی طرح سے ہو رہا ہے۔ ان تنظیموں سے کوئی پوچھے کہ تم یہ کام کر کے کیوں بدنامی مول لے رہی ہو؟
گزشتہ ہفتے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر ایک ڈمپر نے پانچ پاکستانیوں کو ہلاک کر ڈالا۔ ان میں ایک 40سالہ خاتون اور ایک 15سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔ کئی لوگ زخمی ہوئے۔ ڈمپر کا ڈرائیور بھاگ گیا۔ امید واثق ہے کہ پکڑا نہیں جائے گا! کچھ عرصہ پہلے ملیر ہالٹ کراچی میں میاں بیوی کو ایک ٹینکر نے کچل ڈالا۔ خاتون حاملہ تھی۔ ڈمپر‘ ٹینکر اور ٹریکٹر ٹرالیاں ہر سال سینکڑوں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد وہ ہے جو رپورٹ ہو جاتی ہے‘ وگرنہ یہ تعداد ہزاروں میں ہو گی۔ حافظ نعیم الرحمن پہلے سیاستدان ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے ڈمپروں اور ٹینکروں کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ہلاک ہونے والوں کی بات کی ہے۔ اگرچہ یہ بات انہوں نے صرف کراچی کے حوالے سے کی ہے۔ انہوں نے مسئلے کا حل بھی نہیں بتایا۔ صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان کو معاوضہ دیا جائے۔ بہر طور حافظ صاحب کے علاوہ کسی نمایاں عوامی شخصیت نے اس موضوع پر‘ ہمارے علم کی رو سے‘ آج تک احتجاج نہیں کیا۔
کسی بھی حکومت کا‘ وفاقی ہو یا صوبائی‘ اولین فریضہ عوام کی جان کی حفاظت ہے! اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طویل عرصے سے یہ خوفناک قاتل گاڑیاں شاہراہوں پر خون کے دریا بہا رہی ہیں تو حکومتوں نے اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لیکن ٹھہریے! یہ سوال ہی غلط ہے۔ یہ سوال تب درست اور منطقی ہوتا جب ہماری حکومتوں کا اولین فریضہ واقعی عوام کی جانوں کی حفاظت ہوتا! ہماری حکومتوں کا اس فریضے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں! ان کی ترجیحات میں عوام کی زندگیاں آتی ہی نہیں! ٹریفک کا قتلِ عام ہو یا ڈمپروں کی خونریزی‘ حکومتیں مکمل لا تعلق ہیں۔ صرف حکومتوں کی بے اعتنائی کی بات نہیں‘ منتخب عوامی نمائندوں کو بھی ان مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں! حکومتیں اپنے اقتدار کی حفاظت میں مصروف رہتی ہیں یا اقتدار کو مزید طول دینے میں! رہے عوامی نمائندے تو ان کی ترجیحات میں ترقیاتی فنڈز کا حصول ہوتا ہے یا کابینہ میں شمولیت اور اپنے قریبی اعزہ کے لیے ملازمتیں‘ ترقیاں‘ تعیناتیاں اور دیگر فوائد اور مراعات کا حصول!!
اگر کوئی حکومت دلچسپی لیتی تو اس مسئلے سے نمٹنا مشکل نہ تھا! دنیا بھر میں ایسے جرائم سخت سزاؤں سے روکے جاتے ہیں۔ حکومت کو عوام کی فلاح میں دلچسپی ہوتی تو اس ضمن میں قانون سازی کرتی۔ پہلی یہ کہ قاتل ڈرائیور کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ کم از کم چودہ پندرہ سال قید با مشقت کی سزا! دوسری یہ کہ ڈمپر یا ٹینکر یا ٹرالی بحقِ سرکار ضبط کر لی جائے گی۔ تیسری اور اہم ترین یہ کہ مقتول یا مقتولین کے خاندانوں کو گاڑی کا مالک معاوضہ ادا کرے گا جو معمولی یا برائے نام نہیں ہو گا بلکہ کروڑوں میں ہو گا۔ اس کے علاوہ زخمیوں کے علاج کے اخراجات بھی گاڑی کا مالک ہی ادا کرے گا۔ چوتھی یہ کہ اس قبیل کی گاڑیاں دن کی روشنی میں سڑک پر نہیں دکھائی دیں گی۔ یہ اپنا کام راتوں کو کریں گی جب ٹریفک بہت کم ہوتی ہے۔ اگر قانون سازی ان خطوط پر کر دی جائے تو آپ دیکھئے گا کہ ٹینکروں‘ ٹرالیوں اور ڈمپروں کے مالک راتوں رات بے حس حیوانوں کی جگہ انسان بن جائیں گے۔ گاڑیوں کی بتیاں ٹھیک کرائیں گے۔ اَن پڑھ اور اجڈ ڈرائیوروں کی جگہ ایسے ڈرائیور رکھنا شروع کر دیں گے جو اکھڑ ہوں نہ وحشی! جو انسانوں کو انسان سمجھیں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں!
لیکن یہ محض خیالی پلاؤ ہے۔ کس کے پاس اتنا وقت ہے اور کس کو اتنی فکر ہے کہ لوگوں کی جان بچانے کے لیے قانون سازی کرتا پھرے! بظاہر یہی لگتا ہے کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان وحشت ناک گاڑیوں کے مالکان کا بال بیکا نہیں ہو گا۔ یہ پیسے کماتے رہیں گے۔ ان کے رکھے ہوئے ڈرائیور‘ انسان نما جانور ڈرائیور‘ بچوں‘ خواتین اور مردوں کو ہلاک کرتے رہیں گے! تو پھر ہم کیا کریں؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے مائی باپ‘ اپنے سابق آقاؤں‘ انگریز سرکار کو مدد کے لیے پکاریں! ان سامراجیوں میں کم از کم یہ خصوصیت موجود تھی کہ جب عوام کو کوئی مصیبت پیش آتی تو یہ اس کا استیصال کرتے۔ ہم نے پولیس والوں کی خود نوشتوں میں پڑھا ہے کہ کسی گاؤں میں قتل ہوتا تو انگریز پولیس افسر گاؤں کے باہر تنبو لگا کر بیٹھ جاتا اور اس وقت تک وہاں سے نہ جاتا جب تک قاتل پکڑا نہ جاتا۔ ستی کی ظالمانہ رسم کے خلاف بھی انگریز سرکار ہی نے کارروائی کی۔ یہ عجیب بات ہے کہ انگریز سامراج کا بنیادی مقصد ملکہ کی حکومت کی بقا اور استحکام تھا۔اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ظلم بھی بہت کیے۔ اس کے باوجود امن و امان کا قیام اور عوام کی حفاظت بھی ان کے زمانے میں پوری پوری ہوئی۔ اس کی ایک مثال ٹھگوں کا خاتمہ تھا۔ ٹھگ وسطی ہند میں عام پائے جاتے تھے۔ انگریزوں سے پہلے بھی مختلف بادشاہوں نے ان کے خاتمے کی کوششیں کیں لیکن مکمل استیصال ان کا ولیم بینٹک کے دور میں ولیم ہنری سلیمن نے کیا۔ ٹھگ دو دو‘ چار چار کی تعداد میں مسافروں کے قافلوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ مسافروں کی خدمت کر کے ان کا اعتماد حاصل کر لیتے۔ ساتھ ساتھ یہ معلومات بھی حاصل کرتے رہتے کہ کس مسافر کا سامان قیمتی ہے یا کس کے پاس سونا یا روپے ہیں۔ پھر موقع پا کر اپنے شکار کو مار ڈالتے اور اس کا مال لے کر غائب ہو جاتے۔ ان کے مارنے کا طریقہ بھی خاص تھا۔ یہ ریشمی رومال کے ساتھ گلے میں پھندا ڈالتے اور بندے کو مار دیتے۔ ولیم ہنری سلیمن نے خفیہ اطلاعات (انٹیلی جنس) کی بنیاد پر کام کیا۔ ٹھگوں کے جتھوں کو جاسوسوں کے ذریعے پکڑا۔ 1830ء کے لگ بھگ یہ مہم شروع ہوئی اور 1870ء تک ٹھگی کا خاتمہ ہو گیا۔ ہم پاکستانیوں کو چاہیے کہ بر طانیہ کے بادشاہ کے پاس ایک وفد بھیجیں۔ وفد بادشاہ کو باور کرائے کہ جو پاکستان وہ ہندوستان سے نکال کر ہمیں دے گئے تھے اس کے حالات ابتر ہیں۔ بادشاہ کو بتایا جائے کہ اس کی سابق رعایا کے لیے ٹھگی کی جدید شکل ایک عذاب بنی ہوئی ہے۔ یہ جدید شکل ڈمپروں‘ ٹینکروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے۔ بادشاہ سلامت کی سابق رعایا کو مسلسل قتل کیا جا رہا ہے۔ حکومتوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی! بادشاہ سلامت رحم کریں اور ولیم ہنری سلیمن کے پڑپوتے یا پڑپوتے کی اولاد کو حکم دیں کہ آکر مہم چلائے اور آپ کی سابق رعایا کو ان ظالموں کے خونیں پنجے سے نجات دے۔ ٹینکروں‘ ڈمپروں اور ٹرالیوں کے جو ڈرائیور قتل کے مرتکب ہوں انہیں سر عام پھانسی دے اور گاڑیوں کے مالکوں پر اتنے بھاری جرمانے لگائے کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ ایک وفد صدر ٹرمپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دہائی دے۔ اور کہے کہ اے امریکہ کے صدر! آپ حقیقت میں کرہ ٔارض کے بلا شرکت غیرے شہنشاہ ہیں۔ دنیا پر آپ ہی کا سکہ چلتا ہے۔ ہماری حکومت کو تو پروا نہیں۔ آپ کا اشارۂ ابرو ہی کافی ہو گا۔ آپ کے حکم پر ہماری حکومت ان قاتلوں کا خاتمہ کرے گی۔ ازراہِ کرم! ہمیں اپنی رعایا ہی سمجھئے اور ہماری مدد کو پہنچئے۔ بلکہ بہتر ہو گا کہ کینیڈا اور گرین لینڈ کے ساتھ ہی ہم پر بھی نظر کرم کریں!!